دانتوں کی خرابی کا نیا حل؟ سائنس دانوں نے بیکٹیریا کی زبان سمجھ لی

دانتوں کی خرابی کا نیا حل؟ سائنس دانوں نے بیکٹیریا کی زبان سمجھ لی

دانتوں کی خرابی کا نیا حل؟ سائنس دانوں نے بیکٹیریا کی زبان سمجھ لی

بیکٹیریا ایک کیمیائی پیغام رسانی کے نظام کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، جسے سائنسی زبان میں کوورم سینسنگ کہا جاتا ہے۔

نئی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ منہ میں موجود بیکٹیریا کے درمیان ہونے والی کیمیائی ’’گفتگو‘‘ کو روک کر دانتوں کی خرابی اور مسوڑھوں کی بیماری کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس طریقے سے فائدہ مند بیکٹیریا کو فروغ دیا جاسکتا ہے جو مجموعی طور پر منہ کی صفائی اور صحت کو بہتر بناتا ہے۔

بیکٹیریا ایک کیمیائی پیغام رسانی کے نظام کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں، جسے سائنسی زبان میں کوورم سینسنگ کہا جاتا ہے۔

یہ نظام اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کون سے بیکٹیریا زندہ رہیں گے، بڑھیں گے اور جسم کے مختلف حصوں میں پھیلیں گے کیونکہ یہی پیغامات ان کے جینز کے رویے کو متاثر کرتے ہیں۔

امریکا کی یونیورسٹی آف منی سوٹا کے سائنس دانوں نے لیبارٹری میں تیار کردہ بیکٹیریا کمیونٹیز کا تجزیہ کیا جو انسانی دانتوں پر جمنے والی میل (پلاک) سے مشابہ تھیں۔

تحقیق میں یہ واضح ہوا کہ ان کیمیائی سگنلز کو روک کر دانتوں کی سطح پر موجود بیکٹیریا کو صحت مند حالت میں رکھا جاسکتا ہے۔

ماہرِ حیاتی کیمیا مائیکل الیاس کے مطابق دانتوں پر جمنے والی میل ایک ترتیب کے ساتھ بنتی ہے، بالکل جنگلاتی نظام کی طرح۔

ابتدا میں اسٹریپٹوکوکس اور ایکٹینومائسز جیسے بیکٹیریا آتے ہیں، جو عموماً بے ضرر ہوتے ہیں اور اچھی زبانی صحت سے وابستہ ہیں۔ بعد ازاں کچھ ایسے بیکٹیریا شامل ہوجاتے ہیں جو مسوڑھوں کی بیماری، خاص طور پر پیریوڈونٹل ڈیزیز سے منسلک ہوتے ہیں۔

تحقیق میں ایسے مخصوص سالمات پر توجہ دی گئی جو بیکٹیریا کے درمیان پیغام رسانی میں استعمال ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ کچھ انزائمز ان سگنلز کو روک سکتے ہیں جس کے نتیجے میں نقصان دہ بیکٹیریا کے بجائے صحت مند بیکٹیریا کی افزائش ہوتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آکسیجن کی کمی والے ماحول میں موجود بیکٹیریا خود یہ سگنلز پیدا نہیں کرتے مگر وہ دوسرے بیکٹیریا سے آنے والے پیغامات کو محسوس کرسکتے ہیں۔

اس تحقیق سے یہ بھی پتا چلا کہ دانتوں پر جمی تہوں میں رہنے والے بیکٹیریا اس طریقہ علاج کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔

اگرچہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کے درمیان توازن قائم رکھنا دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں سے بچاؤ کا مؤثر طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں