ان عام غذاؤں میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

ان عام غذاؤں میں مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

پلاسٹک کو اس صدی کی سب سے بدترین ایجاد کہا جائے تو بے جانہ ہوگا، جس نے دنیا کے ہر حصے کو آلودہ کردیا ہے اور اب اس کے اثرات بذریعہ غذا براہ انسان کو متاثر کر رہے ہیں۔

 یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد اب یہ جان گئی ہے کہ وہ جو بھی غذا کھا رہے ہیں ان میں پلاسٹک کی کچھ نہ کچھ مقدار ضرور موجود ہوگئی۔

یہاں ماہرین نے روزمرہ غذا میں مائیکرو پلاسٹکس کے 5 ایسے غیر متوقع ذرائع کا انکشاف کیا ہے جنہیں جان کر آپ حیران ہوجائیں گے۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ روزانہ کی خوراک اور مشروبات سے مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار صفر سے 1.5 ملین تک ہو سکتی ہے، جبکہ پلاسٹک کی سب سے بڑی مقدارپانی کی بوتل کے ذریعے انسان میں منتقل ہورہی ہے۔

یہاں پانچ ایسے غیر متوقع ذرائع کا ذکر کیا جارہا ہے۔

چیوئنگ گم

جب آپ گم چباتے ہیں، تو آپ دراصل پلاسٹک کی بول ہی چبا رہے ہوتے ہیں، زیادہ تر چیوئنگ گم ایک گم بیس (پلاسٹک اور ربڑ) سے بنی ہوتی ہے، جس میں میٹھے اور ذائقے والے اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ جب آپ گم چباتے ہیں، تو گم بیس سے مائیکرو پلاسٹکس خارج ہونا شروع ہوجاتے ہیں، جبکہ ایک گرام گم 637 تک مائیکرو پلاسٹک کے ذرات منہ میں خارج ہوتے ہوسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پانی سے مائیکرو پلاسٹک نکالنے کا آسان طریقہ دریافت

قدرتی گم جو پودوں کے پولیمرز سے بنائی جاتی ہے، وہ بھی زیادہ فرق نہیں دکھاتی۔ یہ مصنوعی گم کے برابر مائیکرو پلاسٹکس چھوڑتی ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مائیکرو پلاسٹکس صرف گم بیس سے نہیں آ رہے، بلکہ یہ پیداوار یا پیکنگ کے عمل کے دوران بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

نمک

مک کھانوں میں شامل کیا جانے والا ایک سادہ سا جزوہے مگر تحقیق سے پتہ چلا کہ عالمی سطح پر 94 فیصد نمک کے نمونے مائیکرو پلاسٹکس سے آلودہ ہیں۔ سمندری نمک کے مقابلے میں، زمین کے نمک (جیسے ہمالیائی نمک) میں آلودگی زیادہ ہوتی ہے۔

سیب اور گاجر

سبزیوں اور پھلوں میں بھی مائیکرو پلاسٹکس پائے گئے ہیں، جنہیں پودے اپنی جڑوں سے جذب کرتے ہیں۔ ایک تحقیق میں سیب اور گاجروں کو سب سے زیادہ آلودہ پایا گیا۔

چائے اور کافی

چائے کی تھیلیاں، کافی، اور دودھ بھی مائیکرو پلاسٹکس سے آلودہ ہو سکتے ہیں، خاص طور پر پلاسٹک سے بنے کپ میں گرم مشروبات پینے سے آلودگی بڑھ جاتی ہے۔

سمندری غذا

سمندری غذا میں بھی مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، تاہم ان میں مائیکرو پلاسٹکس کی مقدار دیگر کھانوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔

کوشش کریں کہ کھانوں کو پلاسٹک کنٹینرز رکھنے کے گریز کریں کیونکہ اس طرح ان میں مائیکرو پلاسٹکس کی موجودگی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ مائیکرو ویو میں کھانا پلاسٹک کی بجائے شیشے کے کنٹینر میں پکانے سے اس آلودگی سے بچا جا سکتا ہے۔سب سے بڑی مقدار میں مائیکرو پلاسٹکس بوتل بند پانی میں ہوتی ہے، جو ایک لیٹر میں 240,000 تک پہنچ سکتی ہے۔ ٹیپ واٹر استعمال کرنا اس آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

اگرچہ ہماری خوراک سے پلاسٹک کو مکمل طور پر نکالنا ممکن نہیں، تاہم یہ تدابیر ہمارے مائیکرو پلاسٹکس سے بچاؤ میں مدد دے سکتی ہیں۔



Source link

اپنا تبصرہ لکھیں